#کالم

گیارہ سال بعد بلدیاتی خواب

mirza rizwan

مرزا رضوان

پنجاب کی سیاست میں اچانک ایک بار پھر بلدیاتی انتخابات کا غلغلہ سنائی دے رہا ہے۔ گیارہ برس کی طویل خاموشی، درجنوں قانونی ترمیمات اور بیوروکریسی کی شاہانہ حکمرانی کے بعد اچانک صوبائی ایوانوں میں یہ احساس بیدار ہوا ہے کہ عوام کو ان کے بنیادی جمہوری اور بلدیاتی حقوق ملنے چاہئیں۔ لیکن ایک عام شہری کے ذہن میں سب سے پہلا سوال یہی ابھرتا ہے کہ آخر یہ خیال گیارہ سال بعد ہی کیوں آیا؟ کیا اقتدار کے ایوانوں کو یکایک عوام کے مسائل کا درد محسوس ہونے لگا ہے، یا پھر اس فیصلے کے پیچھے اقتدار کی سیاست، عدالتی دباو¿ اور گلی محلے کی سطح پر بدلتے ہوئے سیاسی معادلات کارفرما ہیں؟
پاکستان میں جمہوریت کا المیہ یہ رہا ہے کہ ہر سیاسی جماعت قومی اور صوبائی سطح پر تو عوام کی نچلی سطح تک بااختیار ہونے کا نعرہ لگاتی ہے، لیکن جیسے ہی صوبائی حکومتیں قائم ہوتی ہیں، مقامی حکومتوں کو اختیارات اور فنڈز کی منتقلی سے گریز کیا جاتا ہے۔ پنجاب میں آخری مرتبہ باقاعدہ بلدیاتی انتخابات 2015 میں منعقد ہوئے تھے، اور اس کے بعد سے صوبے کے بلدیاتی ادارے یا تو تحلیل رہے، یا پھر افسر شاہی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے۔ اس گیارہ سالہ دورانیے میں جس طرح ہر نئی حکومت نے پرانے بلدیاتی قوانین کو مسترد کر کے اپنی مرضی کا ایک نیا قانون متعارف کرایا، اس نے یہ بات ثابت کر دی کہ ترجیح عوام کو بااختیار بنانا نہیں بلکہ سیاسی گرفت مضبوط رکھنا تھا۔
بلدیاتی انتخابات میں گیارہ سال کی تاخیر کی سب سے بڑی وجہ صوبائی سطح پر اختیارات کی شدید مرکزیت کی خواہش ہے۔ ہمارے سیاسی نظام میں صوبائی اسمبلی کے اراکین (ایم پی ایز) اور قومی اسمبلی کے اراکین (ایم این ایز) قانون سازی کے بجائے گلیوں کی پختگی، نالیوں کی صفائی، اور سٹریٹ لائٹس لگانے جیسے کاموں سے اپنے ووٹ بینک کی آبیاری کرتے ہیں۔ اگر یہ تمام اختیارات اور ترقیاتی فنڈز منتخب میئرز، چیئرمینوں اور کونسلرز کے پاس چلے جائیں، تو صوبائی اراکینِ اسمبلی کا مقامی اثر و رسوخ ختم ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقتدار میں آنے والی ہر سیاسی جماعت کے اراکینِ اسمبلی اندرونی طور پر بلدیاتی انتخابات کی سخت مخالفت کرتے رہے ہیں۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران جب مقامی نمائندے موجود نہیں تھے، تو بلدیاتی اداروں کی باگ ڈور ایڈمنسٹریٹرز یعنی بیوروکریسی کے ہاتھوں میں تھما دی گئی۔ نچلی سطح پر سرکاری افسران عوام کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پنجاب کے چھوٹے بڑے شہروں میں صفائی کا نظام درہم برہم ہو گیا، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں، اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں شدید زوال آیا۔ افسر شاہی نے اپنے دفتروں کے بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کیے، جبکہ گلی محلوں کے حقیقی مسائل سے ان کی ناواقفیت نے عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا۔ اس طویل عرصے میں عوام کو یہ اندازہ اچھی طرح ہو گیا کہ افسر شاہی کبھی بھی منتخب بلدیاتی نمائندوں کا بدل نہیں ہو سکتی۔
گیارہ سال کی تاخیر میں قوانین کی بار بار تبدیلی نے بھی مرکزی کردار ادا کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کا ‘پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013’ آیا، تو تحریک انصاف نے حکومت میں آتے ہی اسے تبدیل کر کے 2019 اور پھر 2021 اور 2022 کے قوانین کی شکل دی۔ ہر نئی حکومت نے پچھلی حکومت کے بنائے ہوئے لوکل گورنمنٹ سٹرکچر کو لپیٹ کر نیا فریم ورک بنانے کا عذر تراشا۔ حد بندیوں کے تنازعات، حلقہ بندیوں کے اعتراضات اور عدالتوں کے چکروں میں سالہا سال ضائع کر دیے گئے۔ جب بھی انتخاب کا وقت قریب آتا، کوئی نہ کوئی قانونی یا انتظامی رخنہ ڈال کر معاملے کو مزید چند سالوں کے لیے ملتوی کر دیا جاتا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس وقت بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کا فیصلہ کیوں کیا جا رہا ہے؟ اس کے پیچھے چند اہم عوامل کارفرما نظر آتے ہیں۔ اعلٰی عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی جانب سے مسلسل دباو¿ اور قانونی آئینی ضرورت نے صوبائی حکومت کے لیے مزید تاخیری حربے استعمال کرنا دشوار بنا دیا ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 140A واضح طور پر ہر صوبے کو بااختیار مقامی حکومتیں قائم کرنے کا پابند بناتا ہے۔سیاسی جماعتوں کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ نچلی سطح پر سیاسی کارکنوں کی مایوسی ختم کرنے اور گلی محلے کی سطح پر تنظیم سازی کو فعال بنانے کے لیے بلدیاتی انتخابات سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ اراکینِ اسمبلی اب تمام تر گراو¿نڈ ورک تنہا سنبھالنے میں ناکام ہو رہے ہیں، اور انہیں اپنے ارد گرد متحرک مقامی نمائندوں کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور معاشی ماہرین کی جانب سے بھی گورننس میں بہتری اور مالیاتی اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی پر زور دیا جا رہا ہے، کیونکہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں انتظامی طور پر اتنی پھیلی ہوئی ہیں کہ وہ ہر قصبے اور یونین کونسل کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔
بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان بلاشبہ ایک خوش آئند قدم ہے، لیکن اس فیصلے کا حقیقی امتحان اس بات میں ہے کہ کیا آنے والی مقامی حکومتوں کو واقعی مالی، انتظامی اور سیاسی اختیارات دیے جائیں گے یا یہ صرف ایک کاغذی کارروائی اور سیاسی خانے پری ہوگی؟ اگر نئے بلدیاتی نظام میں بھی میئرز اور کونسلرز کو صوبائی بیوروکریسی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا اور ان کے فنڈز پر صوبائی وزرائ کا قبضہ رہا، تو یہ گیارہ سال بعد کا فیصلہ بھی محض ایک سیاسی ڈرامہ ثابت ہوگا۔
پاکستان میں جمہوریت کا درخت تبھی تناور ہو سکتا ہے جب اس کی جڑیں یعنی مقامی حکومتیں مضبوط ہوں۔ نچلی سطح کے ادارے ہی وہ نرسری ہیں جہاں سے کل کے صوبائی اور قومی رہنما جنم لیتے ہیں۔ اگر پنجاب حکومت واقعی صوبے میں دیرپا گورننس اور عوام کی خوشحالی چاہتی ہے، تو اسے نہ صرف شفاف اور غیر جانبدارانہ بلدیاتی انتخابات کرانے ہوں گے، بلکہ منتخب نمائندوں کو آئین کی روح کے مطابق تمام اختیارات بھی منتقل کرنے ہوں گے۔ بصورت دیگر، گیارہ سال بعد کا یہ خیال بھی محض ایک نیا سیاسی نعرہ بن کر رہ جائے گا۔

گیارہ سال بعد بلدیاتی خواب

صحت امید اور تعمیر وطن

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے