کسان تاحال پریشان  

ڈیرے دار  سہیل بشیر منج

گزشتہ روز جناب سید عاصم منیر صاحب اور محترمہ مریم نواز صاحبہ نے گرین انیشیٹو پروگرام کے تحت چولستان میں ایک پروقار تقریب میں خطاب کیا جس میں کہا جا رہا تھا کہ ان پانچ سالوں میں حکومت پنجاب چولستان تھل سمیت پنجاب کی بیشتر بنجر اور بارانی زمینوں کو قابل کاشت بنانے میں کسانوں کا مکمل ساتھ دے گی بارشوں سیلابوں کے پانیوں کو جمع کر کے اور دریا سندھ سے پنجاب اپنے حصے کا پانی لے کر نہریں نکال کر بارانی علاقوں تک پہنچائے گا اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آج سے پہلے کسی حکومت نے بارانی زمینوں کو آباد کرنے کا کوئی پروگرام نہیں دیا  اس کے بعد وفاقی حکومت نے تاجکستان سے بذریعہ چین،دریائے سندھ  پانی لا کر بلوچستان کے ساڑھے چار کروڑ غیر

آباد لیکن قابل کاشت  رقبے کو آباد کرنے کی شنید سنائی ہے یہ بھی بہت بڑا منصوبہ ہے اور اس پر جتنی جلدی کام شروع ہوگا پاکستان کی ترقی خوشحالی اور استحکام کی راہیں اتنی تیزی سے ہموار ہوتی جائیں گی دعا گوہ  ہوں کہ ہماری موجودہ نسل حکومت کے اس کارنامے کو دیکھنے کے لیے جوان رہے جن زرعی ملکوں نے اپنی غیر

آ باد زمینوں کو آباد کرنے کا تجربہ کیا ہے ان میں سعودی عرب اور چین سر فہرست ہیں انہوں نے چند سالوں میں ہی اپنے صحراؤں کو سر سبز کر دکھایا یعنی سمجھ لیں کہ حکومت کا یہ منصوبہ قابل عمل بھی ہے اور اس کے نتائج بھی مثبت برآمد ہونے کے توقع کی جا سکتی ہے

لیکن زمینی حقائق ابھی تک پریشان کن ہے اور حکومتی دعووں سے بہت مختلف ہیں میرا گزشتہ ہفتہ ملتان، بہاولپور، صادق آباد ڈیرہ غازی خان ،تونسہ اور خانیوال میں گزرا ہے جہاں میری روزانہ کی بنیاد پر بہت سے کسانوں سے ملاقاتیں جاری رہیں وہاں جتنی بھی ملاقاتیں ہوئیں یا جن کسانوں کے گھر گیا ہر گھر کی کہانی ایک ہی تھی تمام کسان اپنے گھروں میں گندم مکئی کپاس اور تل کی فصلیں ویسے ہی لیے بیٹھے ہیں پورا سال گزرنے کو ہے کہ ابھی تک کسان اپنی پچھلی فصلیں فروخت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے وہ ہر فصل میں مقروض ہوئے اگلی فصل پر امید لگائی اور زیادہ مقروض ہوئے اگلی فصل پر امید لگائی تو قرض میں مزید اضافہ ہو گیا اب کسان بچارے جائیں تو کہاں جائیں

حکومت کی طرف سے گرین ٹریکٹر سکیم اور کسان کارڈ کی سہولت فراہم کی گئی لیکن یہ سہولت کسی طور بھی کسانوں کی پریشانیوں کو کم کرنے میں کوئی کردار ادا نہ کر سکی فرض کریں کہ حکومت نے ایک ضلع میں پچاس ٹریکٹر دیے تو اس کا فائدہ صرف پچاس گھروں کو ہوا  سو کسان کاٹ دیے تو اس کا فائدہ صرف سو چھوٹے کسانوں کو ہوا اگر حکومت پنجاب اور حکومت پاکستان حقیقت میں کوئی زرعی انقلاب لانا چاہتی ہیں تو انہیں تشہیر کی بجائے زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا ہوگا ان برے حالات میں بھی کسانوں نے حکومت کی بات کو عزت دی حکومت نے ایک کروڑ ساٹھ  لاکھ ایکڑ زمین پر گندم لگانے کا ہدف مقرر کیا تھا کسانوں نے ایک کروڑ  ستر لاکھ ایکڑ پر گندم لگائی جیسے ہی حکومت نے چوبیس سو روپے فی من قیمت کا اعلان کیا کسانوں نے  گندم کی کھڑی فصلیں چارے کے طور پر بیچنا شروع کر دیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر قیمت چوبیس سو روپے رہی تو ان کے اخراجات بھی پورے نہیں ہوں گے اس صورتحال کے بعد حکومت کو بخوبی اندازہ ہو جانا چاہیے کہ کسانوں کو حکومت پر اعتماد نہیں رہا اگر حالات ایسے ہی رہے تو ڈر ہے کہ کسان اپنی زمین خالی چھوڑ کر فیکٹریوں میں کام کرنا شروع کر دیں گے  اگر ایسا  ہو گیا تو حکومت کو گرین پنجاب پروگرام میں شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا

اگر حکومت چاہتی ہے کہ کسانوں کا اعتماد ان پر بنا رہے تو فوری طور پر کچھ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے سب سے پہلے تو گرین ٹریکٹر اور کسان کارڈ پروگرام کو بند کر کے  یہی رقم کسانوں کو سستی کھاد  موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر جدید ریسرچ کے حامل بیچ اور گرین ڈیزل کے ذریعے کسانوں کو سستا ڈیزل مہیا کرنا ہوگا ان سہولتوں کے ذریعے ان کے بیسک اخراجات میں کمی لائی جائے اور ساتھ انہیں یقین دلایا جائے کہ حکومت ان کی ہر فصل اچھے داموں خریدے گی حکومت خود اپنے کسی محکمے کے ذریعے ملکی ضرورت سے اضافی اجناس کی ایکسپورٹ کو یقینی بنائے  جب تک کسانوں کو یہ یقین نہیں ہوگا کہ جب ان کی فصل

آ ئے گی تو انہیں  مافیاز کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا اس بار گندم کی فصل پر حکومت کو قیمت خرید میں تین سے چار سو روپے فی من اضافہ کے اعلان کے ساتھ خریدداری کی یقین دہانی کرانی ہوگی اگر ایسا ہو جاتا ہے تو میں یقین سے کہہ سکتا  ہوں کہ کسان خوشحال ہو جائیں گے اگر کسان خوشحال ہوگا تو پنجاب اور پھر پاکستان بھی خوشحال ہوگا

Comments (0)
Add Comment