متحدہ عرب امارات کی اوپیک سے علیحدگی کے اثرات
أج کا اداریہ
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کی تنظیم اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان کیاہے
اوپیک پلس تیل برآمد کرنے والے ممالک کا ایک گروپ ہے جو باقاعدگی سے اس بات کا فیصلہ کرتاہےکہ عالمی منڈی میں کتنا خام تیل فروخت کیا جائے۔
اس گروپ کے مرکز میں اوپیک (آرگنائزیشن آف دی پیٹرولیم ایکسپورٹنگ کنٹریز) کے 13 رکن ممالک ہیں، جو زیادہ تر مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے ممالک پر مشتمل ہیں۔ اوپیک 1960 میں ایک کارٹل کے طور پر قائم کی گئی تھی، جس کا مقصد دنیا بھر میں تیل کی رسد اور اس کی قیمت کا تعین کرنا تھا۔متحدہ عرب امارات نے ان تنظیموں سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے۔
امارات کی سرکاری خبر نیوز ایجنسی پر شائع ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اوپیک اور اوپیک پلس چھوڑنے کا فیصلہ ’متحدہ عرب امارات کی پیداواری پالیسی اور اس کی موجودہ اور مستقبل کی پیداواری صلاحیت کے جامع جائزے کے بعد کیا گیا ہے۔‘بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ’ہمارے قومی مفاد اور مارکیٹ کی فوری ضروریات کو مؤثر طریقے سے پورا کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کے عزم کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔‘متحدہ عرب امارات کا مزید کہنا ہے کہ اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کے بعد بھی وہ اپنا ذمہ دارانہ طرزِ عمل جاری رکھے گا اور تیل کی کسی بھی اضافی پیداوار کو بتدریج اور طلب کے مطابق ہی مارکیٹ میں لایا جائے گا۔امارات کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران جنگ کے سبب دنیا میں توانائی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے اور بین الاقوامی معیشت بھی ہچکولے کھا رہی ہے۔
متحدہ عرب امارات نے ابو ظہبی کے ذریعے 1967 میں اوپیک میں شمولیت اختیار کی تھی اور 1971 میں متحدہ عرب امارات کے وجود میں آنے کے بعد بھی یہ اس تنظیم کا رُکن رہا۔متحدہ عرب امارات کے وزیرِ توانائی سہیل المزروعی نے خبر رساں ادارے رؤئٹرز کو بتایا کہ یہ فیصلہ توانائی کے شعبے، تیل کے شعبے اور دیگر شعبوں کے ایک محتاط اور جامع سٹریٹجک جائزے کے بعد کیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات طویل عرصے سے اوپیک اور اوپیک پلس کا رکن رہا ہے اور یہ قدم ایک موزوں وقت پر اٹھایا جا رہا ہے اور خصوصاً آبنائے ہرمز میں موجود پابندیوں کے تناظر میں اس سے منڈی پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا۔
المزروعی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ایک خودمختار اور قومی فیصلہ ہے جو طویل المدتی سٹریٹیجک اور معاشی نقطۂ نظر پر مبنی ہے اور اس سے متحدہ عرب امارات کو اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ خام تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور گیس کے شعبے میں دنیا کی مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زیادہ لچک کے ساتھ تعاون کا موقع ملے گا۔
یارہے اوپیک کے رکن ممالک دنیا کے کل خام تیل کا تقریباً 30 فیصد پیدا کرتے ہیں۔ سعودی عرب اس گروپ کے اندر سب سے بڑا واحد تیل فراہم کرنے والا ملک ہے جو یومیہ ایک کروڑ سے زائد بیرل تیل پیدا کرتا ہے۔ 2016 میں جب تیل کی قیمتیں خاص طور پر کم تھیں، اوپیک نے 10 دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ مل کر اوپیک پلس تشکیل دیا۔
توسیع شدہ گروپ کے اراکین میں روس بھی شامل ہے، جو یومیہ ایک کروڑ سے زیادہ بیرل تیل پیدا کرتا ہے۔
مجموعی طور پر اوپیک پلس کے ممالک دنیا کے کل خام تیل کا لگ بھگ 40 فیصد پیدا کرتے ہیں۔
توانائی کے ادارے سے وابستہ کیٹ ڈوریان کا کہنا ہے کہ ’اوپیک پلس منڈی میں توازن قائم رکھنے کے لیے رسد اور طلب کو ہم آہنگ کرتا ہے۔‘جب تیل کی طلب میں کمی آتی ہے تو رسد کم کر کے قیمتیں بلند رکھی جاتی ہیں۔
یہ تنظیم منڈی میں تیل کی مقدار بڑھا کر قیمتیں کم بھی کر سکتی ہے۔اسے’اوپیک کے اختتام کی شروعات بھی کہا جارہاہے ۔ان کا کہنا ہے کہ ’متحدہ عرب امارات کی علیحدگی سے اوپیک اپنی پیداواری صلاحیت کا تقریباً 15 فیصد حصہ اور اپنے ایک انتہائی قابل انحصار رکن کو کھو دیگی۔اوپیک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق متحدہ عرب امارات سالانہ 29 لاکھ بیرل تیل پیدا کرتا ہے، جبکہ اوپیک کا عملی سربراہ سعودی عرب سالانہ 90 لاکھ بیرل تیل پیدا کرتا ہے متحدہ عرب امارات کے اس فیصلے کے بعد ’سعودی عرب کو اوپیک کے باقی اراکین کو متحد رکھنے میں دشواری پیش آسکتی ہے۔ اور تیل کی مارکیٹ کے انتظام کا زیادہ تر بوجھ عملی طور پر اسے اکیلے ہی اٹھانا پڑے گا۔‘ہوسکتا ہے دیگر اوپیک ممالک بھی اسی راستے پر چل پڑیں۔ ’یہ صورتِ حال مشرقِ وسطیٰ اور تیل کی منڈیوں میں جغرافیائی تبدیلی‘ کی طرف اشارہ کرتی ہے
اوپیک 1960 میں پانچ ممالک، ایران، عراق، کویت، سعودی عرب اور وینیزویلا، نے قائم کی تھی اور اس کا مقصد پیداوار میں ہم آہنگی کے ذریعے اپنے رکن ممالک کے لیے مستحکم آمدن کو یقینی بنانا تھا۔
برسوں کے دوران اس تنظیم میں شامل ممالک کی تعداد میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے، تاہم بانی اراکین کے علاوہ اس میں الجزائر، ایکویٹوریل گنی، گیبون، لیبیا، نائجیریا اور جمہوریہ کانگو بھی شامل ہیں۔
دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق متحدہ عرب امارات اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدہ ہو کر مزید فوائد حاصل کر سکتا ہے۔تیل کی پیداوار 30 فیصد تک بڑھانے کی منصوبہ بندی اوپیک اور اپیک پلس کی تعین کردہ حدود میں رہتے ہوئے مشکل کام تھا۔‘اس فیصلے کے اعلان کے لیے یہ مناسب موقع سنجھاگیا ۔ تیل کی قیمتیں بڑھی ہوئی ہیں اور آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی قلت پیدا ہو رہی ہے ’آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے بعد تیل کی طلب بلند رہے گی کیونکہ ممالک فروری سے کم ہونے والے ذخائر کو دوبارہ پورا کر رہے ہوں گے، لہٰذا قیمتیں بلند رہیں گی۔تاھم امارات کے اس فیصلے سے اوپیک کمزور پڑ جائے گا۔ایران اور عراق جیسے دیگر تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کے پاس اضافی پیداواری صلاحیت موجود نہیں تھی۔ یہ صلاحیت زیادہ






