اینٹی کرپشن مہم کی اصل حقیقت۔۔!!
پیر مشتاق رضوی
پنجاب حکومت نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر کرپشن کے خلاف جس زیرو ٹالرنس مہم کا آغاز کر رکھا ہے اس نے جہاں عام آدمی کے دل میں امید کی کرن جگائی ہے وہیں پورے صوبے کے سرکاری دفاتر میں خوف و ہراس کی فضا بھی قائم کر دی ہے۔ اس مہم کے بنیادی مقاصد کرپشن فری پنجاب کا قیام، لوٹی ہوئی قومی دولت کی واپسی، نظام کی احتیاطی اصلاحات اور عوام کی براہ راست رسائی ہیں۔ اسی مقصد کے لیے ٹھیکوں کی بولی کو ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے، پراپرٹی ٹیکس اور گندم کی خریداری کی جی پی ایس ٹریکنگ شروع کی گئی ہے، تمام سرکاری فیسوں کو ای پے کے ذریعے وصول کیا جا رہا ہے، وزیر اعلیٰ کا خفیہ سیل براہ راست شکایات سن رہا ہے، ہیلپ لائن 1350 پر شناخت خفیہ رکھی جا رہی ہے اور ہر ضلع میں کھلی کچہریاں لگ رہی ہیں۔اگر اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو کارکردگی بظاہر متاثر کن نظر آتی ہے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے صوبہ بھر میں 600 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں 341 سرکاری ملازمین شامل ہیں، ملتان ڈویڑن میں 57، گوجرانوالہ میں 52 اور ڈی جی خان میں 39 چھاپے مارے گئے۔ فروری 2023ئ سے ستمبر 2025ئ شہریوں نے اکسٹھ ہزار سات شکایات درج کرائیں،65 ہزار سات سو چون شکایات نمٹائی گئیں، 27 ہزار نو سو چھیانوے انکوائریاں شروع کی گئیں اور 15 ہزار سات سو سولہ مکمل ہوئیں، 3 ہزار 686 مقدمات درج ہوئے اور 1954چالان عدالتوں میں جمع کرائے گئے، 384 ٹریپ ریڈز کے ذریعے 2826 افراد گرفتار ہوئے جبکہ373 اشتہاری پکڑے گئے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس عرصے میں تقریبا” 42ارب روپے کی تاریخی ریکوری بھی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کے 791 افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی جن میں سے 78 برطرف اور ساٹھ معطل ہوئے اور فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے54 افسران کو برطرف یا معطل کیا گیا ہے، یہاں تک کہ اینٹی کرپشن نے اپنے ہی محکمے کے 21 افسران کو کرپشن پر معطل کر کے احتساب کا آغاز اپنے گھر سے کیا ہے۔مگر اس مہم کا دوسرا اور تشویشناک رخ سرکاری دفاتر میں پیدا ہونے والا خوف ہے۔ چھاپوں کے صوبہ بھر کے دفاتر میں کام پچاس فیصد تک سست ہو گیا ہے، صرف لاہور کے 84 تھانوں میں رواں سال اب تک ایک لاکھ 65 ہزار مقدمات درج ہوئے ہیں جو تفتیش کے منتظر ہیں۔ تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ لاہور پولیس کے لیے تفتیش کی مد میں صرف چار کروڑ روپے دیے گئے ہیں جبکہ ضرورت ایک ارب روپے کی ہے، ایک قتل کے مقدمے پر پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک خرچ آتا ہے جو وہ اپنی جیب سے برداشت نہیں کر سکتے۔ ایک اعلی’ تفتیشی آفیسر نے خود اس مالی بحران کی تصدیق کی ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ فائل کو ہاتھ لگاو¿ تو رشوت کا الزام اور نہ لگاو¿ تو غفلت کا الزام لگتا ہے اس لیے بہتر ہے کہ فائل کو ہاتھ ہی نہ لگایا جائے۔ یہاں تک کہ یہ شکایت بھی سامنے آئی ہے کہ پراسیکیوشن کے اہلکار بھی چالان کے اعتراضات دور کرنے کے لیے پیسے مانگتے ہیں۔اسی صورتحال نے ایک عام تاثر کو جنم دیا ہے کہ چھوٹی مچھلیاں پکڑی جا رہی ہیں اور بڑے مگر مچھ محفوظ ہیں۔ گرفتار ہونے والوں کی فہرست دیکھیں تو اے سی آفس کا کلرک، یو سی کا نائب قاصد، پٹواری کا منشی، ہسپتال کا کمپیوٹر آپریٹر اور پیرا فورس کا سپاہی نظر آتے ہیں، عوام سوال کرتی ہے کہ کسی کمشنر، ڈپٹی کمشنر، ایکسین یا بڑے ٹھیکیدار کو کب ہتھکڑی لگے گی۔ سرکاری حلقوں میں یہ الزام بھی عام ہے کہ یہ کارروائیاںصرف اور صرف کارکردگی دکھانے کے لیے پری پلان ہوتی ہیں اور مدعی اکثر اینٹی کرپشن کے ہی ٹاو¿ٹ ہوتے ہیں جو پرانے کام کو بہانہ بنا کر نشان زدہ نوٹوں کے ساتھ ٹریپ لگواتے ہیں اور پھر اس کی ویڈیو میڈیا کو جاری کر دی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹریپ صرف اس ملازم کو پکڑ سکتا ہے جو ہاتھ میں نوٹ لے، بڑے افسر کی کروڑوں کی کرپشن کاغذوں، ٹھیکوں اور ٹرانسفر پوسٹنگ میں ہوتی ہے جو ٹریپ سے نہیں بلکہ آڈٹ اور انکوائری سے پکڑی جاتی ہے، اور جب تک سزا کا نظام مضبوط نہیں ہو گا یہ خوف عارضی ہی رہے گا۔ لمح? فکریہ ہے کیا ان ریڈز سے کرپشن میں کمی ہوئی ہے؟ اس کا جواب ہاں میں بھی ہے اور نہیں میں بھی۔ ہاں اس لحاظ سے کہ نچلی سطح کی خوردہ رشوت میں وقتی طور پر واضح کمی آئی ہے، جن اضلاع میں ٹریپ زیادہ ہوئے ہیں وہاں پٹواری اور کلرک کھلے عام پیسے مانگنے سے ڈرنے لگے ہیں اور ہیلپ لائن 1350پر دس دن میں 2700 شکایات کا آنا اور1705 کا فوری حل ہونا اس کی دلیل ہے۔ نہیں اس لحاظ سے کہ بڑی اور منظم وائٹ کالر کرپشن میں کوئی بڑی کمی نہیں آئی بلکہ اس کی شکل بدل گئی ہے، رشوت لینے والا اب زیادہ ہوشیار ہو گیا ہے اور براہ راست پیسہ لینے کے بجائے فرنٹ مین کے ذریعے لیتا ہے۔ ایک بجلی کمپنی میں مبینہ ڈیڑھ لاکھ رشوت، جعلی بجلی چوری کے مقدمات اور ٹرانسفارمر کی مرمت کے لیے بھتہ خوری جیسے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ دوسرے محکموں میں کرپشن اب بھی برقرار ہے۔حرف آخر یہ ہے کہ چھاپہ کرپشن کو روک سکتا ہے ختم نہیں کر سکتا، ختم وہ نظام کرے گا جہاں سائل کو سرکاری دفتر جانے کی ضرورت ہی نہ رہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹریپ کی ویڈیو کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتائے کہ کتنے بڑے افسران کی جائیدادیں ضبط ہوئیں، کتنے مقدمات میں سزا ہوئی اور بیالیس ارب کی ریکوری میں سے کتنی رقم قومی خزانے میں جمع ہوئی، ورنہ چھوٹے ملازم کی جیب سے پانچ ہزار روپے نکال کر بڑے مگر مچھ کو بچانے کا تاثر مزید گہرا ہوتا چلا جائے گا۔






