#کالم

لابنگ کا عفریت ااور اداروں کی کارکردگی

Untitled 5

جاویدایازخان

آج سے پچاس سال قبل جب ملازمت کا آغاز کیا تو بینک میں افسران کی پسند یا ناپسند تو ہواکرتی تھی مگر لابنگ کا تصور نہیں تھا۔ہر شخص انفرادی محنت اور خدمت سے افسران بالا کی نظروں میں مقام حاصل کرنے کی کوشش تو ضرور کرتا تھا مگر کسی گروپ کی شکل میں اجتماعی کارکردگی کی بنا پر ترقی یا تنزلی کا شکار نہ ہوتا تھا۔البتہ مزدورں کی یونین کی اجارہ داری ہوا کرتی تھی جو ایک منظم مگر قانونی شکل ہوا کرتی تھی اس صورت حال کو لابنگ قرار نہیں دیا جاسکتا۔اگر ایک جملے میں دیکھا جاے تو یونین اپنے اراکین کےاجتماعی حقوق کے لیے ایک پلیٹ فارم ہے جبکہ لابنگ کسی مخصوص مفاد یا مطالبے کے لیے اثر انداز ہونے کا طریقہ ہے۔یونین بھی لابنگ کرسکتی ہے یعنی یونین تنظیم ہے جبکہ لابنگ اس تنظیم کی اختیار کردہ ایک سرگرمی شمار ہو سکتی ہے۔یونین کے دور میں مزدور تو متحدرہتے تھے مگر افسران بکھرے رہتے اور اپنی اپنی صلاحیتوں اور کوششوں کے ساتھ ساتھ افسران بالا کی شفقت حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہتے۔لیکن افسران بالا بھی کارکردگی کے بغیر کسی ایک فرد کی حمایت نہیں کرتے تھے۔کیونکہ پر فارمنس کے بغیر ان کا اپنا بقا مشکل ہوا کرتا تھا۔اس لیے وہ ہمیشہ کارکردگی کے حامل ا فراد کی سرپرستی کرتے تھے۔صلاحیت اور محنت ترقی کا ذریعہ ہوا کرتی تھی۔یہی وجہ تھی کہ ہمارے بنک میں ایک ایسے پریذیڈنٹ بھی گزرے ہیں جو گارڈ بھرتی ہوے تھے۔ لابنگ کی مختصر تعریف یہ ہے کہ "لابنگ جب اجتماعی مفاد اور جائز نمائندگی تک محدود رہے تو مشاورت کا ذریعہ بن سکتی ہے لیکن جب یہ میرٹ کو پیچھے دھکیل کر ذاتی مفادات ،ناجائز سفارش اور پسند ناپسند کا راستہ بن جاے تو ادارےکی جڑیں کمزور کرنے لگتی ہے "۔یہ لابی ہمیشہ بڑی خاموشی سے کام کرتی ہیں اور اپنے مفاد کی حفاظت کرتی ہیں۔لابنگ سے مراد کسی ادارے ،بااثر فرد یا فیصلہ ساز پر منظم طریقے سے اثر انداز ہونے کی کوشش ہے تاکہ کوئی مخصوص فیصلہ، پالیسی، مفاد یا مطالبہ اپنے حق میں حاصل کیا جا سکے۔سادہ لفظوں میں لابنگ وہ عمل ہے جس میں افراد یا گروہ اپنے مفادات کے لیے فیصلہ کرنے والوں کو قائل یا متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں مثلاً کسی ادارے میں کسی خاص شخص کی ملازمت، ترقی، تبادلے یا کسی ٹھیکے کے لیے بااثر افراد کے ذریعے دباو¿ ڈالنا بھی لابنگ کی ایک شکل ہو سکتی ہے۔ اہم فرق: ہر لابنگ لازماً غیر قانونی یا غلط نہیں ہوتی؛ جمہوری نظاموں میں مفادات کی نمائندگی کے لیے قانونی اور شفاف لابنگ بھی ہوتی ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب لابنگ ناجائز سفارش، ذاتی مفاد، دباو¿ یا میرٹ کی پامالی کا ذریعہ بن جائے۔اور اگر یہ لابنگ کسی بینک یا کمرشل فنانشل ادارے میں ہو تو نہایت خطرناک ہو جاتی ہے۔ایک گروپ اپنے پسندیدہ لوگ آگے لانے کے لیے پرانے اور وفادار ملازمان کا گلہ گھونٹ دیتا ہے۔میں نے بینکوں میں دیکھا ہے کہ جب ایک لابی آتی ہے تو اپنے تمام پسندیدہ لوگوں کو ادارے میں لانا چاہتی ہے اس لیے ان کے لیے جگہ بنانا ضروری ہوتا ہے جو کسی کو اس کے عہدے سے ہٹا کر ہی ممکن ہوتا ہے۔مجھے خود کئی مرتبہ اس لابنگ سے واسطہ پڑ چکا ہے۔ایک ادارے میں میں تیس سال سے کام کر رہا تھا اور میری فائل کارکردگی کی اسناد اور تعریفی خطوط سے بھری پڑیں تھیں۔دوران ملازمت ایک افسر سے اس کی سفارش نہ ماننے پر اختلاف ہو گیا اور بدقسمتی سے وہ اور اس کی لابی برسر اقتدار آگئے میری تیس سالہ خدمات ردی کا ڈھیر بن گئیں اور مجبورا” مجھے اپنا ادارہ تبدیل کرنا پڑا۔پھر ثابت ہوا کہ اس ایک لابی نے اس ادارے کو کتنے ہی پرانے مخلص اور باصلاحیت لوگوں سے محروم کردیا اور جب ادارے کی ساکھ پر سوال آیا تو اس پوری لابی یا گروپ سے جا ن چھڑانا پڑی اور پھر سے پرانے لوگوں کی تلاش شروع ہوئی مگر چڑیاں کھیت چگ چکی تھیں مجبورا” ایک پوری کی پوری نئی لابی کو لانا پڑا ۔اب تو ادارے بھی پوری کی پوری لابی یا گروپ کو لا کر کامیابی کے خواب دیکھتے ہیں اور دیکھنے میں آرہا ہے کہ ہر چند سال بعد یہ لابی یا گروپ اپنی بہتری کے لیے ادارہ چھوڑ جاتا ہے۔یہ فیصلہ اس گروپ یا لابی کا سربراہ کرتا ہے اور باقی سب لبیک کہتے ہیں۔ادارے عمارتوں، میزوں، کرسیوں اور فائلوں سے نہیں بنتے، ادارے لوگوں کی محنت، اہلیت، دیانت اور ذمہ داری سے بنتے ہیں۔ مگر جب کسی ادارے میں کارکردگی سے زیادہ تعلقات، قابلیت سے زیادہ قربت اور میرٹ سے زیادہ لابنگ اہم ہو جائے تو ادارہ بظاہر چلتا رہتا ہے، مگر اندر سے اس کی روح کمزور ہونے لگتی ہے۔ لابنگ ایک ایسا عفریت ہے جو ابتدا میں شاید دکھائی نہیں دیتا۔ یہ کسی ملازم کے گرد تعلقات کا حصار بناتا ہے، پھر سفارش کو راستہ دیتا ہے، پسند و ناپسند کو فیصلوں میں داخل کرتا ہے اور رفتہ رفتہ میرٹ کو ایک ایسے کونے میں دھکیل دیتا ہے جہاں اس کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ سب سے خطرناک صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ملازمین یہ محسوس کرنے لگیں کہ محنت کرنے سے زیادہ ضروری کسی بااثر شخص یا گروپ تک رسائی حاصل کرنا ہے۔ پھر کام کرنے والے ہاتھ سست پڑنے لگتے ہیں اور تعلقات بنانے والی زبانیں مصروف ہو جاتی ہیں۔ دفتر میں فائلیں چلتی ہیں، مگر کارکردگی رک جاتی ہے۔ ایک قابل ملازم جب بار بار دیکھتا ہے کہ کم محنت کرنے والا صرف تعلقات کی بنیاد پر آگے بڑھ رہا ہے تو اس کے اندر سوال جنم لیتا ہے: ”اگر میری قابلیت کی کوئی قیمت نہیں تو میں اپنی توانائی کیوں صرف کروں؟“ یہی سوال کسی بھی ادارے کے زوال کی پہلی دستک بن سکتا ہے۔ لابنگ صرف میرٹ کو نقصان نہیں پہنچاتی، یہ محنت کے جذبے کو بھی کھا جاتی ہے۔ جب فیصلوں کا پیمانہ یکساں نہ رہے تو ملازمین میں احساسِ محرومی جنم لیتا ہے، ٹیم ورک متاثر ہوتا ہے اور ادارہ اجتماعی مقصد کے بجائے ذاتی مفادات کا میدان بننے لگتا ہے۔ اصل المیہ یہ نہیں کہ کوئی شخص سفارش کے ذریعے آگے نکل گیا؛ اصل المیہ یہ ہے کہ اس عمل نے ان لوگوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا جو اپنی قابلیت پر اعتماد کرتے تھے۔ اداروں کو افراد کی ضرورت ہوتی ہے، مگر ایسے افراد کی جو ادارے کے مفاد کو اپنی ذاتی وابستگیوں سے بلند رکھ سکیں۔ جب افسر پسندیدہ لوگوں کا نہیں بلکہ اصولوں کا سرپرست بن جائے، اور ملازم تعلقات کے بجائے اپنی کارکردگی کو اپنی پہچان بنائے، تو ادارے مضبوط ہوتے ہیں۔ لابنگ کا عفریت کسی ادارے کو ایک دن میں نہیں کھاتا۔ یہ پہلے میرٹ کو کمزور کرتا ہے، پھر محنت کا حوصلہ توڑتا ہے، پھر انصاف پر سوال اٹھاتا ہے اور آخرکار کارکردگی کو نگل جاتا ہے۔ ادارہ تب نہیں مرتا جب اس کی عمارت گر جائے بلکہ ادارہ اس دن مرنا شروع ہو جاتا ہے جب وہاں کام کرنے والے یہ یقین کھو دیں کہ محنت کا کوئی صلہ بھی ہے؟ ادارے سے زیادہ اپنی لابی یا گروپ کے مفادات کو ترجیح دینا دراصل وہ عفریت ہے جو ادارے کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔ لیکن یہ بھی یاد رہے کہ یونین ہو یا لابی آخر کار سب وقت کے دھارے میں بہہ جاتے ہیں۔کسی بھی چیز کا عروج دراصل زوال کی ابتدا ہوتا ہے۔عروج کاخصول آسان ہے مگر اسے برقرار رکھنا ایک امتحان ہوتا ہے۔

لابنگ کا عفریت ااور اداروں کی کارکردگی

28/10/2026 DAILY SARZAMEEN LAHORE

لابنگ کا عفریت ااور اداروں کی کارکردگی

ستائیس اکتوبر،یوم ظلم

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے