#کالم

27 اکتوبر،یومِ سیاہ کشمیر اور تاریخ کا لہو رنگ موڑ

rafeh s

رفیع صحرائی

تاریخِ عالم میں کچھ ایام ایسے ہوتے ہیں جو کسی قوم کے لیے خوشی، مسرت اور آزادی کی نوید بن کر آتے ہیں، جبکہ کچھ دن مظلوم انسانوں پر ظلم و استبداد، غصب اور ناانصافی کی سیاہ رات بن کر نازل ہوتے ہیں۔ 27 اکتوبر 1847ءکو غاصب سکھ حکمران کے ساتھ بیچی گئی کشمیر کی باضمیر و غیور سرزمین پر، 27 اکتوبر 1947ء کو ایک اور تاریخ ساز تاریخی ڈاکہ ڈالا گیا۔ یہ وہ سیاہ ترین دن تھا جب بھارتی افواج نے تمام بین الاقوامی قوانین، اخلاقی اقدار اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑاتے ہوئے سری نگر کی سرزمین پر پیش قدمی کی اور وادی کشمیر پر غصبانہ تسلط قائم کر لیا۔ آج جب ہم 27 اکتوبر کو پورے ملک اور دنیا بھر میں "یومِ سیاہ کشمیر” کے طور پر منا رہے ہیں، تو یہ صرف ایک رسمی احتجاج نہیں، بلکہ حقِ خود ارادیت کی اس شمع کی یاد دہانی ہے جسے قریباً آٹھ دہائیوں کے خونخوار مظالم بھی بجھا نہیں سکے۔تقسیمِ ہند کے طے شدہ اصولوں کے مطابق مسلم اکثریت پر مشتمل ریاست جموں و کشمیر کا فطری حق تھا کہ وہ پاکستان میں شامل ہوتی۔ جغرافیائی، مذہبی، ثقافتی اور معاشی رشتے اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ کشمیر پاکستان کی شاہ رگ ہے۔ لیکن بھارتی حکمرانوں نے کشمیری عوام کی منشا و رضا کو پامال کرتے ہوئے راجہ ہری سنگھ کے ساتھ نام نہاد، جعلی اور متنازع "الحاق” کا ڈرامہ رچایا۔ کشمیری عوام نے اس جبری تسلط کو پہلے دن ہی مسترد کر دیا تھا اور آج بھی وہ اپنے اس موقف پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح قائم ہیں۔79 برس کا عرصہ بیت چکا ہے، لیکن مقبوضہ وادی کی مٹی آج بھی کشمیریوں کی سرخیِ خون سے لالہ زار ہے۔کشمیریوں کی تحریکِ آزادی دنیائے تاریخ کی ان چند بے مثال تحریکوں میں سے ہے جہاں نسل در نسل قربانیوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ بزرگ ہوں، جوان ہوں یا مائیں بہنیں، ہر ایک نے تحریکِ آزادی کے لیے بے دریغ قربانیاں دی ہیں۔ مقبول بٹ، سید علی گیلانی، برہان وانی اور ہزاروں گمنام شہدا کا خون اس بات کا بین ثبوت ہے کہ بندوق کے زور پر لکھی گئی تاریخ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ غاصبانہ تسلط قائم کرنے والی طاقتیں جغرافیائی حدبندی تو کر سکتی ہیں، لیکن بیدار دلوں میں دھڑکتی ہوئی آزادی کی تڑپ کو کبھی قید نہیں کر سکتیں۔5 اگست 2019ءکے شوم و نا مسعود اقدام کے بعد سے بھارتی فاشسٹ حکومت نے مقبوضہ وادی کو دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی کے ذریعے کشمیریوں کی آبادیاتی تناسب (Demographics) کو تبدیل کرنے کا مذموم منصوبہ تیزی سے جاری ہے۔ وادی میں لاکھوں کی تعداد میں غاصب فورسز کا پہرہ ہے۔ جعلی مقابلے اور پیلٹ گنوں کا استعمال روزمرہ کا معمول بن چکا ہے، جس سے ہزاروں نوجوان بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔ چادر و چاردیواری کی پامالی اور بنیادی انسانی حقوق کا سلب ہونا وہاں کی سخت اور عیاں حقیقت ہے۔بدقسمتی سے، عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دعوے مقبوضہ کشمیر کے معاملے میں آ کر دم توڑ دیتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی درجنوں متفقہ قراردادیں موجود ہیں جو کشمیریوں کو استصوابِ رائے (Plebiscite) کا حق دیتی ہیں، لیکن مفادات کی سیاست اور معاشی ترجیحات نے عالمی برادری کی آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے۔ مغرب اور انسانی حقوق کی تنظیمیں دیگر خطوں میں ذرا سی ناانصافی پر تو حرکت میں آ جاتی ہیں، لیکن کشمیر کے جگر فگار بچوں اور بلکتی ماو¿ں کی آہ و زاری پر ا±ن کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ یہ بے حسی خود عالمی امن کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کو اپنی شاہ رگ مانتے ہوئے ہر عالمی فورم، اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور متعدد بین الاقوامی کانفرنسز پر کشمیریوں کا مقدمہ بھرپور طریقے سے لڑا ہے۔ سفارتی، سیاسی اور اخلاقی سطح پر پاکستان کی حمایت کبھی کمزور نہیں ہوئی۔ تاہم، موجودہ بدلتے ہوئے جیو پولیٹیکل حالات اور ہندوتوا نظریے کی چڑھائی کے سامنے پاکستان کو مزید فعال اور جدید حکمتِ عملی اپنا نی ہوگی۔ پاکستان کو چاہیے کہ اب محض بیانات اور احتجاجی ریلیوں سے آگے بڑھ کر دنیا کے تمام اہم دارالحکومتوں میں "کشمیر ڈیسک” فعال کیے جائیں اور ڈائریکٹ لابنگ کی جائے۔ دنیا بھر کی نوجوان نسل تک سچائی پہنچانے کے لیے دستاویزی فلمیں، ڈیجیٹل مہمات اور تحقیقاتی صحافت کا سہارا لیا جائے۔27 اکتوبر کا دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ظالم کا ظلم جتنا شدید ہوتا جائے، مظلوم کی جدوجہد اتنی ہی توانا ہوتی جاتی ہے۔ تاریخ کا سبق ہے کہ جبر کی رات چاہے کتنی ہی لمبی اور اندھیری کیوں نہ ہو، آزادی کا سورج طلوع ہو کر رہتا ہے۔ کشمیریوں کی قربانیاں، شہدا کا خون اور ان کی بے باک عزیمت رائیگاں نہیں جائے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امتِ مسلمہ اور بالخصوص پاکستان اپنے داخلی مسائل سے بالاتر ہو کر کشمیری بھائیوں کا ہاتھ تھامے رکھے، کیونکہ کشمیر کی آزادی صرف کشمیریوں کا حق نہیں بلکہ برصغیر کے دائمی امن اور خود پاکستان کی بقا اور سلامتی کی ضامن ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے