اجمل فاروق موہل،ایک دوست، قانون دان، کتاب شناس اور حوصلہ افزا شخصیت
ڈاکٹر راشد دانش انصاری
جنم دن ہو یا سالگرہ محض کیک کاٹنے، مبارک باد دینے یا عمر کا ایک ہندسہ بڑھ جانے کا نام نہیں۔ یہ دراصل زندگی کی کتاب کا ایک نیا ورق کھولنے اور گزرے ہوئے سفر پر ایک نظر ڈالنے کا موقع ہے۔ پچپن سالہ جنم دن تو بالخصوص ایک ایسا سنگِ میل ہے جہاں انسان اپنے پیچھے رہ جانے والے برسوں میں رشتوں، دوستیوں، کامیابیوں، خدمات اور یادوں کے نقوش دیکھ سکتا ہے۔ اسی حوالے سے چوہدری اجمل فاروق موہل ایڈووکیٹ کی پچپن سالہ جنم دن محض ایک شخص کا جنم دن نہیں بلکہ ایک متحرک، کتاب دوست اور محبت بانٹنے والی شخصیت کے سفر کو یاد کرنے کا موقع ہے۔اجمل فاروق موہل سابق نائب صدر شیخوپورہ بار ہیں۔ وکالت ان کا پیشہ ہے، مگر ان کی شخصیت کو صرف قانون کی کتابوں میں تلاش کیا جائے تو شاید بہت کچھ نظروں سے اوجھل رہ جائے۔ وہ ایک مخلص دوست، مطالعے کے شائق، باغبانی سے محبت کرنے والے، سماجی سرگرمیوں میں پیش پیش اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنے والے انسان ہیں۔ جھامکے میں ان کی اپنی ایک سماجی شناخت ہے اور مذہبی و معاشرتی سرگرمیوں میں ان کی شرکت انہیں مزید نمایاں کرتی ہے۔مجھے ان کی شخصیت کا سب سے خوب صورت پہلو دوست کی کامیابی پر خوش ہونے کا وصف محسوس ہوتا ہے۔ میرے ڈاکٹریٹ کے سفر میں ان کی حوصلہ افزائی کئی مواقع پر میرے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی رہی۔ جب وہ محبت سے مجھے جھامکے گاو¿ں کا پہلا ڈاکٹر ہونے کا حوالہ دیتے تو بظاہر ایک چھوٹا سا جملہ میرے لیے بڑے حوصلے کا باعث بنتا۔ تحقیق کا سفر طویل بھی ہوتا ہے اور بعض اوقات تھکا دینے والا بھی، ایسے میں کسی مخلص دوست کی زبان سے نکلا ہوا حوصلہ افزا جملہ انسان کو دوبارہ اپنے مقصد کی طرف متوجہ کر دیتا ہے۔ اجمل فاروق موہل کی یہ محبت میرے لیے محض تعریف نہیں بلکہ ایک یادگار ذاتی تجربہ ہے۔ان کی شخصیت کا ایک اور دل چسپ پہلو کتاب دوستی ہے۔ ان کے ذاتی کتب خانے میں قانون کی کتابوں کے ساتھ داستان، ناول، افسانہ، ڈراما، خاکہ، شاعری اور تنقید کا خاصا ذخیرہ موجود ہے۔ ایک وکیل کا ادب کی اتنی اصناف سے شغف اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی دلچسپی عدالت اور قانون کی چار دیواری سے آگے بھی پھیلی ہوئی ہے۔ میرے ساتھ کتابوں اور ادب کے حوالے سے ہونے والی گفتگو میں ان کا مطالعہ اور ذوق اکثر محسوس ہوتا ہے۔مجھے ان کے ہاں ایک اور خوب صورت امتزاج دکھائی دیتا ہے: کتاب اور باغ۔ ایک طرف کتب خانے میں لفظوں کے پھول ہیں اور دوسری طرف باغبانی کے شوق میں حقیقی پھول۔ فطرت کے نظاروں سے ان کی محبت ان کے مزاج کی شگفتگی کا ایک خاموش اظہار ہے۔اجمل فاروق موہل کی علم دوستی صرف ذاتی مطالعے تک محدود نہیں۔ اپنے سسر، معروف وکیل محمد اسلم ایڈووکیٹ کی یاد میں اسلم آئیڈیل سکول، جھامکے کا قیام اس جذبے کی عملی مثال ہے۔ کسی مرحوم کو یاد رکھنے کا یہ انداز خاص معنویت رکھتا ہے کہ اس کی یاد ایک ایسے ادارے کی صورت اختیار کر جائے جہاں بچوں کو تعلیم ملے۔ یوں ایک شخص کی یاد آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑ جاتی ہے۔ان کی زندگی کا ایک اہم باب خاندان بھی ہے۔ ایک ذمہ دار باپ کی حیثیت سے اولاد کی تربیت اور مستقبل کے لیے فکرمندی ان کی شخصیت کا وہ پہلو ہے جو عوامی زندگی کی چہل پہل سے الگ، مگر شخصیت کی تکمیل کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔اجمل فاروق موہل نوجوانوں کی حوصلہ افزائی میں بھی خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ نئی نسل کو صرف نصیحت نہیں، اعتماد بھی درکار ہوتا ہے۔ میرے اپنے تجربے میں ان کا رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کسی نوجوان کی کامیابی کو ذاتی کامیابی کی طرح خوش دلی سے دیکھتے ہیں۔جھامکے کی سماجی زندگی میں مذہبی، سیاسی اور معاشرتی تقریبات کے انعقاد میں ان کی دلچسپی بھی قابلِ ذکر ہے۔ وہ محفل میں شریک ہونے والے ہی نہیں، بسا اوقات محفل کے انعقاد اور رونق کا سبب بھی بنتے ہیں۔ لوگوں سے ملنا، تعلق نبھانا اور اجتماعی سرگرمیوں میں حصہ لینا ان کے مزاج کا حصہ ہے۔ساٹھ برس کی عمر میں پیچھے مڑ کر دیکھا جائے تو اجمل فاروق موہل صاحب کی زندگی کا اصل حسن شاید یہی ہے کہ انہوں نے صرف عمر نہیں گزاری، تعلقات بھی کمائے ہیں۔ قانون کو پیشہ بنایا، کتاب کو دوست، باغ کو شوق، نوجوانوں کو حوصلہ اور سماج کو اپنی مصروفیات کا حصہ بنایا۔میرے لیے وہ ان دوستوں میں شامل ہیں جن کی موجودگی کسی رسمی تعارف کی محتاج نہیں۔ ان کے ساتھ وابستہ یادوں میں میرے ڈاکٹریٹ کے سفر کی حوصلہ افزائی ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ شاید اسی لیے ان کی ساٹھویں سالگرہ پر مبارک باد دیتے ہوئے رسمی جملوں کے بجائے دل سے یہی نکلتا ہے کہ بعض لوگ آپ کی زندگی میں اس لیے اہم نہیں ہوتے کہ وہ کیا عہدہ رکھتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ آپ کو کیا احساس دیتے ہیں۔اجمل فاروق موہل نے مجھے احترام، اپنائیت اور حوصلے کا یہی احساس دیا ہے۔پچپن برس کی سالگرہ کے اس خوب صورت سنگِ میل پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد۔ اللہ کریم انہیں صحت و تندرستی، خوش حالی، عزت، سکون اور ایمان و عافیت کے ساتھ طویل عمر عطا فرمائے، ان کی اولاد کو ان کے لیے باعثِ فخر بنائے اور ان کے علم، دوستی اور خدمت کے سفر کو مزید ثمرآور کرے۔ آمین






