ہم خود کو اپنی نظر سے کیسا دیکھنا چاہتے ہیں ؟
جاویدایازخان
ایک مشہور ترین فوٹو گرافر نے اپنی دکان کے باہر بورڈ لگایا ہوا تھا۔ جس پر درج ذیل تین تحریریں لکھی ہوئی تھیں کہ بیس روپے میں آپ جیسے ہیں ویسی فوٹو بنوائیں اور تیس روپے میں آپ جیسا سوچتے ہیں ویسی فوٹو بنوائیں اور پچاس روپے میں آپ لوگوں کے سامنے جیسے دکھنا چاہتے ہیں ویسی تصویر بنوائیں۔اس کامیاب ترین فوٹو گرافر نے مرتے وقت بتایا کہ مجھ سے لوگ ہمیشہ پچاس روپے والی تصویر بنوائی ہے۔اس کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ (اکثر) لوگ پوری زندگی دوسروں کو دکھانے کے لیے گزار دیتے ہیں۔ساری زندگی دکھاوا کرتے گزار دیتے ہیں اور بیس روپے والی زندگی نہیں گزارتے۔وہ فوٹو گرافر کہتا تھا کہ کاش میں ان لوگوں کو بتا سکتا کہ "آپ جیسے بھی ہیں بہت اچھے ہیں اور بیس روپے والی آسان اور حقیقی زندگی گزاریں تو زیادہ خوش رہیں گے۔سوال یہ ہے کہ ہم خود کو اپنی نظر سے کیوں دیکھنا نہیں چاہتے ؟دوسروں کو دکھانے کے لیے جینا بھی کیا اصل زندگی ہے ؟آجکل شادی یا دیگر تقریبات کی خوشی فوٹو گرافی یا ویڈیو شوٹ سے منسلک ہو کر رہ گئی ہے۔لاکھوں روپے کا مہنگا میک اپ اور لاکھوں روپے کے ملبوسات صرف فوٹو شوٹ کے لیے کئے جاتے ہیں۔میک اپ اور لباس سے چہرے بدلنے کا رجحان اسقدر بڑھ چکا ہے کہ میک اپ کے بعد گھر کے افراد یہاں تک کہ بچے بھی ماوں کو پہچان نہیں پاتے۔بیوٹی پارلر اور فوٹو شوٹ کی بھاری اخراجات نے نکاح اور شادی جیسے فریضہ کو مشکل تر بنا دیا ہے۔ ہماری زندگی ایک ایسی دلچسپ اور عجیب کتاب ہے جسے ہر شخص کو اپنے ہی نام سے لکھنا ہوتا ہے، مگر ہم میں سے بہت سے لوگ اس زندگی کی کتاب کے صفحات دوسروں کی پسند کے مطابق لکھتے لکھتے اپنی کہانی ہی بھول جاتے ہیں اور زندگی کی اصل خوبصورتی کھو دیتے ہیں۔ ہم کیا پہنیں، کہاں جائیں، کیا خریدیں، کس کے سامنے کیسے نظر آئیں؟ان سب سوالوں کے درمیان ایک اہم سوال کہیں گم ہو جاتا ہے کہ آخر ہم خود کیا چاہتے ہیں؟ آج ہم نے خوشی کو بھی نمائش بنا دیا ہے۔ہر ہاتھ میں موجود موبائل اور کیمرہ ہر ہر لمحہ محفوظ کرتا ہے۔ خوش ہوں تو تصویر ضروری، سفر کریں تو منظر کی گواہی ضروری، کچھ خریدیں تو لوگوں کو معلوم ہونا ضروری، اور کامیاب ہوں تو اس کا چرچا ضروری ہے۔سالگرہ یا باپ کا یاماں کا دن منانا ہو تو تصویر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ جیسے زندگی تب تک مکمل نہیں ہوتی جب تک اسے دوسروں کی آنکھوں میں پیش نہ کردیا جائے۔سوشل میڈیا اور فیس بک پر وائرل زندگی سب سے داد چاہتی ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ دکھاوے کی دنیا جتنی روشن دکھائی دیتی ہے، اندر سے اتنی ہی تاریک ہوسکتی ہے۔ چمکتے ہوئے چہروں کے پیچھے تھکن، قیمتی لباس کے اندر بے اطمینانی، بڑے گھروں میں تنہائی اور مسکراتی ہوئی تصویروں کے پیچھے کئی ان کہے دکھ چھپے ہوتے ہیں۔ دوسروں کی نظر میں بڑا بننے کی خواہش کبھی ختم نہیں ہوتی۔ آج جو چیز حاصل کرلی، کل اس سے بڑی چیز کی ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے۔ آج جس تعریف سے دل خوش ہوا ہے کل اس سے زیادہ تعریف درکار ہوتی ہے۔ یوں انسان اپنی خوشی کا اختیار اپنے ہاتھ سے نکال کر لوگوں کی ا?نکھوں اور زبانوں میں دے دیتا ہے۔ حالانکہ زندگی کا سب سے بڑا حسن شاید یہی ہے کہ انسان کو ہر وقت ثابت نہ کرنا پڑے کہ وہ خوش ہے۔ کچھ خوشیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی کوئی تصویر نہیں بنتی۔ کچھ کامیابیاں ایسی ہوتی ہیں جن کا کوئی اعلان نہیں ہوتا۔ کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جنہیں دنیا کی کسی بھی سند کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور کچھ سکون ایسا ہوتا ہے جو صرف خاموشی میں ملتا ہے اور کچھ دکھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی تصویر کشی ممکن ہی نہیں ہوتی ؟ زندگی اللہ کی عطا ہے لوگوں کو دکھانے کے لیے سجایا گیا کوئی منظر نہیں ہوتا مگر ہم نے اپنی خوشیوں کا معیار دوسروں کی نگاہوں کو بنا لیا ہے۔ حالانکہ زندگی کا حسن اس میں نہیں کہ لوگ ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہیں؛ اصل حسن تو اس میں ہے کہ ہم اپنے بارے میں کیا محسوس کرتے ہیں۔ سکون وہ دولت ہے جو کسی نمائش گاہ میں نہیں ملتی۔ اطمینان وہ لباس ہے جسے پہن کر انسان کو کسی تعریف کی ضرورت نہیں رہتی۔ دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے جینے والا انسان ہر وقت ایک ایسے امتحان میں بیٹھا رہتا ہے جس کا پرچہ بھی دوسروں کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور نتیجہ بھی۔ آج کسی نے تعریف کردی تو خوش، کل کسی نے نظرانداز کردیا تو اداس۔ یہ کیسی زندگی ہے جس کی خوشی کا اختیار بھی اپنے پاس نہیں؟زندگی کا اصل حسن اس وقت سامنے آتا ہے جب انسان دوسروں کی آنکھوں سے خود کو دیکھنا چھوڑ دیتا ہے۔ جب وہ یہ سوچنے کے بجائے کہ لوگ کیا کہیں گے، یہ سوچنا شروع کرتا ہے کہ میرا دل کیا کہتا ہے، میری روح کس بات پر مطمئن ہوتی ہے، اور میری زندگی کا اصل مقصد کیا ہے؟ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ لوگ ہماری زندگی کے صرف تماشائی ہیں، اس کے مالک نہیں۔ وہ چند لمحوں کے لیے ہماری خوشی دیکھ سکتے ہیں، ہماری تصویر پر تبصرہ کرسکتے ہیں، ہماری کامیابی پر مبارک باد دے سکتے ہیں، مگر ہماری راتوں کی بے خوابی، ہمارے دل کی تھکن اور ہماری خاموشیوں کا بوجھ وہ نہیں اٹھا سکتے۔ اس لیے زندگی کو لوگوں کی پسند کے مطابق نہیں، اپنے ضمیر کی روشنی میں جینا چاہیے۔اس لیےفوٹو گرافر کی بیس روپے والی تصویر درحقیقت ہماری ضرورت ہے۔آخرکار ایک دن یہ سب شور تھم جائے گا۔ تعریف کرنے والی زبانیں خاموش ہوجائیں گی، تصویروں پر آنے والے تبصرے مٹ جائیں گے، نمائش کی ساری چیزیں پیچھے رہ جائیں گی اور انسان اپنے آپ کے سامنے کھڑا ہوگا۔ تب سوال یہ نہیں ہوگا کہ لوگوں نے ہمیں کتنا پسند کیا؟ سوال یہ ہوگا کہ ہم نے اپنی زندگی کو کتنی سچائی کے ساتھ جیا ہے ؟اس لیے ہمیں اپنی زندگی کو اپنی اقدار، اپنی ضرورتوں اور اپنے اطمینان کے مطابق جینا سیکھنا ہوگا۔ کیونکہ آخرکار جب عمر کی شام اترتی ہے تو انسان کو یہ یاد نہیں رہتا کہ لوگوں نے اس کے لباس کی کتنی تعریف کی تھی، گھر کی کتنی تعریف کی تھی یا اس کی گاڑی کتنی خوبصورت تھی؛ اسے یاد رہتا ہے کہ اس نے زندگی میں کتنا سکون پایا، کتنے دل جیتے، کتنے رشتے نبھائے اور کتنی سچائی کے ساتھ خود کو جیا۔ زندگی نمائش نہیں، تجربہ ہے؛ اور جو زندگی دوسروں کو دکھانے میں گزر جائےوہ شاید نظر تو بہت اچھی آئے، مگر جیتی بہت کم جاتی ہے۔ زندگی کا مقصد یہ نہیں کہ ہم سب کو بتاتے پھریں کہ ہم کتنے خوش، کتنے کامیاب اور کتنے مطمئن ہیں۔ بعض خوشیاں خاموش رہ کر زیادہ خوبصورت رہتی ہیں۔ بعض کامیابیاں اعلان نہیں مانگتیں اور بعض رشتے دنیا کی گواہی کے محتاج نہیں ہوتے۔اب فیصلہ آپ کا ہے کہ آپ اپنی تصویر بیس روپے والی اصل اور حقیقی دیکھنا چاہتے ہیں یا پھر پچاس روپے والی مصنوعی اور بناوٹ والی ؟ آپکی زندگی بہت خوبصورت ہے اسے اس کی حقیقت میں دیکھیں۔جھوٹ پر نہیں سچ پر زندگی گزاریں۔






