#کالم

سسٹم تباہ،تلخ نوحہ!

rao ghulam mustufa

راو غلام مصطفی

قومیں صرف جغرافیے سے نہیں بنتیں۔بلکہ ایسے نظام سے بنتی ہیں جن پر عوام کو اعتماد ہو۔ جب نظام انصاف بروقت انصاف فراہم کرے، سرکاری ادارے عوام کی خدمت کو اپنا فرض سمجھیں، قانون سب کے لیے یکساں ہو اور ریاست اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کی محافظ بن جائے تو ترقی خود راستہ ڈھونڈ لیتی ہے۔ لیکن جب نظام چند افراد کے مفادات کا اسیر بن جائے تو پھر قومیں وسائل کے باوجود محرومی، انتشار اور مایوسی کا شکار ہو جاتی ہیں۔حالیہ دنوں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے یہ اعتراف کیا کہ "سسٹم تباہ ہو چکا ہے۔” بظاہر یہ ایک مختصر جملہ ہے، مگر اس کے اندر گزشتہ اٹھہتر برس کی حکمرانی کا ایک تلخ نوحہ پوشیدہ ہے۔ یہ اعتراف اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ وہ نظام جس پر ریاست کھڑی ہوتی ہے، وہ عوام کا اعتماد کھو چکا ہے۔ اگر آج ملک کے اعلیٰ ترین حکومتی حلقوں سے یہ آواز بلند ہو رہی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کربیٹھیں، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمیں یہ احساس پیدا ہونے میں واقعی اٹھہتر سال لگ گئے؟پاکستان کا المیہ یہ نہیں کہ اس کے پاس وسائل نہیں، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ یہاں وسائل سے زیادہ نظام کی کمی ہے۔دنیا کی ترقی یافتہ ریاستوں پر نظر ڈالیں وہاں حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر نظام نہیں بدلتا۔ جاپان جنگ عظیم دوم کے بعد کھنڈرات سے اٹھ کر دنیا کی بڑی معیشت بن گیا۔ سنگاپور نے چند دہائیوں میں بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس اختیار کر کے خود کو ایشیا کا معاشی مرکز بنا لیا۔ جنوبی کوریا نے تعلیم، صنعت اور تحقیق کو قومی ترجیح بنایا اور آج ٹیکنالوجی کی دنیا میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ جرمنی، کینیڈا، آسٹریلیا اور شمالی یورپ کے ممالک کی ترقی کا راز بھی یہی ہے کہ وہاں ادارے افراد سے زیادہ طاقتور ہیں۔قانون حکمران اور عام شہری دونوں کے لیے یکساں ہے اور پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہتا ہے۔اس کے برعکس پاکستان میں اکثر ہر نئی حکومت پرانی حکومت کی پالیسیوں کو دفن کر دیتی ہے۔ منصوبے بدل جاتے ہیں، ترجیحات بدل جاتی ہیں، لیکن عوام کی محرومیاں نہیں بدلتی۔ یہی وجہ ہے کہ قوم مسلسل ایک دائرے میں گھوم رہی ہے۔ ہر بحران کے بعد نئی کمیٹیاں بنتی ہیں، نئے وعدے کیے جاتے ہیں، مگر نظام وہیں کا وہیں رہتا ہے۔سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر ذمہ دار کون ہے؟ کیا صرف سیاست دان؟ یا صرف بیوروکریسی؟ یا صرف ادارے؟ حقیقت یہ ہے کہ ذمہ داری ان تمام طبقات پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے دہائیوں تک ریاستی نظام کو مضبوط بنانے کے بجائے وقتی مفادات کو ترجیح دی۔ جب آئین اور قانون سے زیادہ شخصیات اہم ہو جائیں، جب میرٹ کی جگہ سفارش لے لے، جب احتساب صرف مخالفین کے لیے رہ جائے اور جب قومی مفاد پر سیاسی مفاد غالب آ جائے تو پھر نظام اپنی بنیادیں کھو دیتا ہے۔آج عام پاکستانی کی زندگی اس ناکام نظام کی سب سے بڑی گواہ ہے۔ شہری بجلی، گیس، پانی، صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف جیسی بنیادی سہولتوں کے لیے دربدر ہے۔ ایک مریض ہسپتال کے دروازے پر علاج کا منتظر ہے، ایک نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں ہے، ایک کسان اپنی فصل کی مناسب قیمت کا منتظر ہے اور ایک مزدور مہنگائی کے سامنے بے بس کھڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی حقوق ہی فراہم نہ کر سکے تو پھر اس نظام کی کامیابی کا معیار کیا ہے؟المیہ یہ ہے کہ ہم نے بحرانوں کو معمول بنا لیا۔ ہر چند ماہ بعد مہنگائی، بجلی، قرضوں، بیروزگاری، بدعنوانی یا انتظامی ناکامی کا نیا بحران سامنے آ جاتا ہے، لیکن اصلاحات کی بجائے وقتی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ گویا ملک کو مستقل منصوبہ بندی کے بجائے "ڈنگ ٹپاو¿ پالیسی” کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ یہ طرز حکمرانی نہ ریاست کو مضبوط بناتا ہے اور نہ ہی عوام کا اعتماد بحال کرتا ہے۔آج اگر واقعی یہ اعتراف کیا جا رہا ہے کہ سسٹم ناکام ہو چکا ہے تو پھر اس اعتراف کو صرف بیان تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی سطح پر ایک ایسا مکالمہ شروع ہونا چاہئیے جو نظام میں نئے سرے سے اصلاحات کا تعین کرے۔ترقی یافتہ دنیا نے سبق سیکھ لیاکہ قومیں افراد کے سہارے نہیں بلکہ اداروں کے ذریعے ترقی کرتی ہیں۔ وہاں کسی ایک شخصیت کے جانے سے ریاست نہیں رکتی، کیونکہ نظام اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ پاکستان کو بھی شخصیات کی سیاست سے نکل کر اداروں کی مضبوطی کی طرف بڑھنا ہوگا۔ جب تک قانون سب کے لیے برابر نہیں ہوگا، احتساب بلاامتیاز نہیں ہوگا اور عوامی خدمت کو اقتدار کا مقصد نہیں بنایا جائے گا، اس وقت تک تبدیلی کا خواب حقیقت نہیں بن سکے گا۔یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ اجتماعی خود احتسابی کا ہے۔ اگر واقعی بلی تھیلے سے باہر آ چکی ہے اور یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ موجودہ نظام قوم کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہا، تو پھر اصلاحات کا سفر بھی اسی جرات کے ساتھ شروع ہونا چاہیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے انہیں درست کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔پاکستان کو ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں شہری خود کو محفوظ سمجھے، نوجوان اپنے مستقبل سے مایوس نہ ہو، سرمایہ کار کو اعتماد حاصل ہو، کسان خوشحال ہو، مزدور باعزت زندگی گزار سکے اور قانون طاقتور و کمزور کے درمیان فرق نہ کرے۔ اگر ہم نے اب بھی اصلاحات کا راستہ اختیار نہ کیا تو آنے والی نسلیں شاید یہی سوال کریں گی کہ جب سب کو معلوم تھا کہ نظام ناکام ہو چکا ہے، تو اسے بدلنے کی جرات آخر کس نے نہیں کی؟

سسٹم تباہ،تلخ نوحہ!

سسٹم تباہ،تلخ نوحہ!

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے