عرس داتالاہور اور ہمارے سوال
عبدالقادر مشتاق
چند سوالات آپ کے کانوں پر ضرور پڑھتے ہیں۔ اس پر آشوب دور میں یہ ضروری ہے کہ ان سوالات پر بات کی جاے۔ تاکہ ہماری نوجوان نسل چند تک بھی یہ پیغام پہنچے کہ کیا بزرگوں کے مزارات سجدہ گاہیں بن چکے ہیں؟ کیا وہاں صرف شرک اور خرافات ہوتی ہیں؟ کیا اولیائے کرام سے نسبت رکھنا توحید کے خلاف ہے؟ کیا ہر نیک انسان کو "ولی” کہہ کر اولیائے کرام کے منفرد روحانی مقام کو معمولی بنا دینا درست ہے؟ کیا مزارات پر ہونے والی بعض رسومات، ڈھول، دھمال یا غیر شرعی اعمال پوری صوفی روایت کی نمائندگی کرتے ہیں؟ کیا درباروں کا لنگر حرام ہے؟ کیا بزرگوں سے عقیدت انسان کو اللہ سے دور کر دیتی ہے؟ یہ سوالات ہر سال اس وقت پھر زندہ ہو جاتے ہیں جب لاہور حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری? کے سالانہ عرس کی روشنیوں سے جگمگا اٹھتا ہے۔ لاکھوں زائرین ملک کے کونے کونے سے داتا کی نگری کا رخ کرتے ہیں۔ ایک طرف عقیدت مندوں کا سمندر ہوتا ہے، دوسری طرف سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں وہی پرانی بحث شروع ہو جاتی ہے۔ کوئی اسے عشق و عقیدت کا اظہار قرار دیتا ہے، کوئی اسے بدعت کہتا ہے، کوئی شرک کا نام دیتا ہے، اور کوئی اسے برصغیر کی ہزار سالہ روحانی روایت کا تسلسل سمجھتا ہے۔ لیکن شاید ہم اصل سوال بھول جاتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ عرس پر کتنے لوگ آئے، کتنی چادریں چڑھیں یا کتنے دیگوں کا لنگر تقسیم ہوا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا حضرت داتا گنج بخش کی تعلیمات بھی اسی تعداد میں لوگوں تک پہنچ رہی ہیں؟ کیا "کشف المحجوب” بھی اسی شوق سے پڑھی جا رہی ہے جس شوق سے مزار کی زیارت کی جاتی ہے؟ حضرت داتا گنج بخش نے لاہور کو صرف ایک مزار نہیں دیا بلکہ ایک فکری اور روحانی مکتب عطا کیا۔ انہوں نے تصوف کو شریعت سے جدا نہیں کیا، بلکہ دونوں کو ایک دوسرے کا لازمی رفیق قرار دیا۔ ان کے نزدیک فقر، اخلاص، علم، تقویٰ اور خدمتِ خلق ہی ولایت کی پہچان تھے۔حضرت واصف علی واصف فرماتے ہیں کہ لوگ داتا صاحب کے دربار پر دنیا مانگنے تو آتے ہیں، مگر بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو یہ دعا کرتے ہوں کہ حضور! آپ نے اللہ تک پہنچنے کے لیے جو سفر طے کیا، اس میں سے مجھے بھی کچھ حصہ عطا ہو۔ اس ایک جملے میں عرس کا اصل فلسفہ پوشیدہ ہے۔ عرس صرف میلہ نہیں، بلکہ اپنے باطن کا محاسبہ ہے، صرف حاضری نہیں، بلکہ اپنی زندگی کو اولیائے کرام کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کا عہد ہے۔ اگر کسی مزار پر ایسی رسومات پائی جاتی ہیں جو دین کی اصل تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتیں تو ان کی اصلاح ہونی چاہیے، کیونکہ خود اولیائے کرام نے دین کو آسان، خالص اور سنتِ نبوی کے مطابق سمجھنے کی دعوت دی۔ لیکن اصلاح کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت داتا گنج بخش ، حضرت خواجہ معین الدین چشتی ، بابا فرید ، سلطان باہو اور دیگر اولیائے کرام کی پوری روحانی روایت کو نظر انداز کر دیا جائے۔ ان بزرگوں نے برصغیر میں اسلام کو محبت، کردار، علم اور خدمت کے ذریعے متعارف کرایا، اور یہی ان کی سب سے بڑی کرامت ہے۔ شاید عرسِ داتا کا سب سے بڑا پیغام بھی یہی ہے کہ چادر سے زیادہ کردار، رسم سے زیادہ اخلاص، اور ہجوم سے زیادہ دل کی اصلاح اہم ہے۔ اگر لاہور ہر سال لاکھوں زائرین کو داتا کے در پر جمع کرتا ہے تو یہ اجتماع صرف عقیدت کا نہیں، خود احتسابی کا بھی ہونا چاہیے۔ کیونکہ داتا گنج بخش کا فیض صرف مزار تک پہنچنے میں نہیں، بلکہ ان کے پیغام کو اپنی زندگی میں اتارنے میں ہے۔






