چالیس ارب ڈالر خوش آئند لیکن مانیٹرنگ اتھارٹی ناگزیر

ملک محمد سلمان

عالمی بینک کے وفد نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی معاشی اصلاحات کا اعتراف کرتے ہوئے 10 سالہ کنٹری پارٹنر شپ فریم ورک (سی پی ایف) کی منظوری دے دی ہے، ورلڈ بینک نے پاکستان کو پہلے ایسے ملک کے طور پر منتخب کیا ہے جہاں وہ 10 سالہ شراکت داری کی حکمت عملی متعارف کرانے جا رہا ہے۔ عالمی بینک پاکستان کو 20 بلین ڈالر کے قرضوں کے علاوہ نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت عالمی بینک کے ذیلی اداروں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن اور ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی کے ذریعے مزید 20 بلین ڈالر کے نجی قرضے کی حمایت بھی کرے گا اس طرح کل پیکج 40 بلین ڈالر ہو جائے گا ۔ وزیراعظم شہباز شریف کی کامیاب پالیسیوں اور انتھک محنت کا نتیجہ ہے کہ ملکی معیشت صحیح سمت اور ترقی کی جانب گامزن ہے۔ شہباز شریف کی قیادت میں چالیس ارب ڈالر کا تاریخی پیکچ پاکستان کی تقدیر بدل دے گا لیکن وزیراعظم سے گزارش ہے کہ اس وقت پاکستان سرکاری ملازمین کی مزید کرپشن کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ماضی سے لیکر حال تک یہی ہوتا آ رہا ہے کہ اربوں روپے کے فنڈز کو عوام کیلئے استعمال کرنے کی بجائے وہاں تعینات افسران خود کو ورلڈ بینک اور باقی سب کو حقیر سمجھ کر ٹریٹ کرتے ہیں، پراجیکٹ ہیڈ لگنے والے افسر کاسب سے پہلے نعرہ ہی یہی ہوتا ہے کہ میں اتنے سو ارب کا مالک اور اکیلا ہائرنگ فائرنگ اتھارٹی ہوں۔ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے عوام کے نام پر حاصل کیے گئے ہزاروں ارب لوٹ کر بیرون ملک اپنی جنت بنانے والے سرکاری افسران پاکستان کو عام آدمی کیلئے جہنم بنا رہے ہیں۔ ہوش ربا کرپشن کی واردات رقم کرنے کیلئے اربوں روپے کی خطیر رقم کے منصوبے میں گریڈ 18کے جونئیر کو ’’آل ان آل‘‘ لگانے والا اور شیلڑ دینے والے سینئر افسران برابر کے حصہ دار ہوتے ہیں۔ تین سے چار افسران مل کر مجموعی منصوبے کا بیس سے چالیس فیصد لوٹ لیٹے ہیں۔ حکومت کو ان منصوبوں کیلئے افسران کے لاڈلے اور کمائوپتر افراد کی بجائے ایماندار افسران کا تقرر کرنا چاہئے۔ کرپٹ ترین افسران کو ڈوئیر کا نام دے کر سیاہ و سفید کی آزادی دینا ہرگز عقلمندی نہیں۔ قیام پاکستان سے لیکر اب تک ورلڈ بینک سے ہم 363پراجیکٹ کی مد میں 49183ملین ڈالرز یعنی 14ہزار ارب لے چکے ہیں۔ ورلڈ بینک کی فنڈنگ اور قرضوں سے حالیہ رننگ پراجیکٹس کی رقم لگ بھگ چار ہزار ارب سے زائد ہے۔ وفاق میں ایک ہزار ارب سے زائد کے پراجیکٹس ورلڈ بینک کی فنڈنگ سے چل رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں ڈیمز کی ایکسٹیشن اور تعمیر کے 772ارب کے علاوہ 576ارب کے مختلف پراجیکٹس چل رہے ہیں۔ سب سے زیادہ 992ارب کے پراجیکٹس سندھ میں جبکہ پنجاب میں 621ارب اور بلوچستان میں 76ارب کے پراجیکٹس چل رہے ہیں۔ یہ ڈیٹا صرف رننگ پراجیکٹس کا ہے۔ ورلڈ بنک فنڈنگ والے منصوبوں میں 30ارب سے لیکر 500ارب تک کے پراجیکٹس ہیں۔ درجنوں ایسے پروگرام چل رہے ہیں اور سینکڑوں آئے اور ختم بھی ہوگئے۔ پچیس کروڑ عوام کے نام پر کئی سو کھرب روپے کے فنڈز مخصوص افسران کھاگئے۔ پہلے والوں کااحتساب جب ہوگا تب سہی کم از کم موجودہ لوٹ مارکرنے والوں کا ہاتھ روکنے کیلئے ’’ انٹرنیشنل فنڈز مانیٹرنگ اتھارٹی‘‘ بنائی جائے۔ ضروری ہے کہ اس اتھارٹی میں آرمی کے افسران، آڈیٹر اور ایکسپرٹس رکھے جائیں۔احتساب اور میرٹ کیلئے واحد حل آرمی افسران پر مبنی اتھارٹی کا قیام ہے اگر سول افسران رکھے گئے تو یہ بھی ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کی طرح فنڈنگ پراجیکٹس والے افسران کی کرپشن روکنے کی بجائے حصہ وصول کر کے سب اچھا کی رپورٹ کر دیں گے۔ آئی ایم ایف، ایشین ڈویلپمنٹ بینک، یو ایس ایڈ اور دیگر بین الاقوامی پراجیکٹس میں عجب کرپشن کی غضب داستانیں ہیں۔ ماضی میں سب سے زیادہ کرپشن صاف پانی، زراعت، کلائمیٹ چینج، وائلڈ لائف و جنگلات، حقوق نسواں، صحت اور تعلیم کے فنڈڈ پروگراموں میں کی گئی ہے۔ اربوں روپے کے ان میگا پراجیکٹس کے باوجود ان شعبوں میں بہتری اس لیے نہیں ہوسکی کہ جن پراجیکٹس کے نام پر کھربوں روپے کے قرضے لیے اور کھائے گئے عام آدمی تو درکنار سرکاری ملازمین کی اکثریت نے انکا نام تک نہیں سنا۔ فائیو سٹار ہوٹل میں رہائشیں اور سیمینار کرکے بلز بنائے جاتے ہیں۔ مارکیٹ ریٹ سے کئی گنا زائد ریٹ پر پرائیویٹ عمارتیں کرایہ پر لیکر من پسند افراد کو نوازا جاتا ہے اور کک بیک کی صورت ریگولر کمائی کی جاتی ہے۔ ایک پراجیکٹ میں درجنوں دفعہ اسیسمنٹ اور ویلوایشن کے نام پر کنسلٹینسی فیسیں دی جاتی ہیں۔ من پسند افراد کو من مرضی کے پیکج بانٹے جاتے ہیں۔ اگر سرکاری افسران کی یہ ساری جعل سازیاں اور دونمبریاں بند نہ کیں تو آج لیا ہوا چالیس ارب ڈالر یعنی 11158ارب روپیہ، ڈالر کے بڑھتے ہوئے ریٹ کی پیش نظر مستقبل میں تیس سے چالیس ہزار ارب ڈالر کرکے واپس کرنا پڑے گا۔ ڈالر کے بڑھتے ہوئے ریٹ کو روکنے اور روپے کی قدر میں اضافے اور بیرونی قرضے کے درست استعمال کیلئے آزاد اور خود مختار مانیٹرنگ ایجنسی بنانا ناگزیر ہے۔ مانیٹرنگ ایجنسی وفاق سمیت تمام صوبوں میں موجود انٹرنیشنل فنڈنگ کے تمام منصوبوں کی تحقیقات میں بالکل آزاد ہونی چاہئے کیونکہ اس بیرونی قرض کے منصوبوں میں سندھ اور خیبرپختونخوا میں جو ریکارڈ ساز لین دین ہوئی ہے اس کا خمیازہ تو حکومت پاکستان اور عوام کو ہی بھگتنا ہے۔

Comments (0)
Add Comment