نو فروری سے 25فروری تک پھیلا ہوا ہجوم

دنیا کی مہذب اقوام کے ساتھ جب ہم اپنا موازنہ کرنے کا سوچتے ہیں تو کئی واقعات سے تو ہمیں خود کو قوم سمجھنے کی غلطی بھی سنگین تر لگتی ہے ۔
ہمارے اجداد نے جس ملک کو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر قائم کرنے کی خاطر لازوال قربانیاں دیں
اس کا شائد کسی کو احساس ہی نہیں ۔ہم ایک قوم کی بجائے ہجوم کی صورت نظر آتے ہیں ۔
ماہرین نفسیات کے نزدیک ہجوم کا کوئی دماغ نہیں ہوتا
اسے کوئی بھی رعب دار آواز سے ہانک کر نئی سمت پر ڈال سکتا ہے اور ہمارے ساتھ ایسا ہی ہوا ہے ۔
ہمارا المیہ یہ بھی ہے کہ ہجوم کا مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں ہوا بلکہ اسے ہانکنے والے کردار بدلتے رہے ۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے مذہبی آزادی کا جو اعلان کیا تھا اسے یکسر نظر انداز کردیا گیا ۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی سے 11 اگست 1947ء کو خطاب کیا۔
اس خطاب میں محمد علی جناح نے امور ریاست، مذہبی آزادی، قانون کی حکمرانی، مساوات کا پرچار کیا۔
اسی تقریر میں قائد اعظم محمد علی جناح مذہب اور ریاست کی علیحدگی کی حمایت بھی کرتے نظر آئے۔
قائد اعظم محمد علی جناح کو عملی طور پر اس ہجوم کو قوم بنانے کے لئے زیادہ مہلت نہ مل سکی
اور شروع سے ہی انکے بتائے گئے راستے اور وژن سے ہم بھٹک گئے ۔
گمراہی کا تسلسل آج ہمیں اس نہج پر لے آیا ہے کہ خود اپنی شناخت کے بھی قابل نہیں رہے ۔
اپنے ہیروز کی پہچان نہیں رہی ،اقدار اور روایات کو سمجھا ہی نہیں گیا ۔
نوجوانوں کے ذہنوں میں جو زہر ہجوم کو ہانکنے والوں نے بھر دیا،آج اسکے نتائج پوری دنیا دیکھ رہی ہے یا جملہ سیدھا کردوں تو آج پوری دنیا ہمارا تماشا دیکھ رہی ہے ۔
اس کا ایک مظاہرہ تو 25فروری 2024ء کو پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے مشہور اچھرہ بازار میں دیکھنے کو ملتا ہے ،جو پورے پاکستان کی دنیا بھر میں رسوائی کا سبب بن گیا ۔
ایک خاتون کو صرف عربی رسم الخط والا لباس زیب تن کرنے پر مشتعل ہجوم کی جانب سے گھیرائو کرکے ماردینے کی کوشش نے دنیا کو ششدر کرکے رکھ دیا ہے ۔
عالمی میڈیا نے اس واقعہ کی فوٹیج دکھا کر حقائق بھی طشت از بام کر دئیے ہیں ۔
خاتون کے لباس پر صرف عربی کے حروف تہجی کو جواز بناکر اسے مقدس کتاب کی تحریر قرار دینا ایک اور جہالت ہے جس پر مقامی علماء کے فتوے نے ہمارے مبلغ علم کی بھی عالمی برادری پر قلعی کھول دی ہے ،
خودمتاثرہ خاتون کئی بار کہتی رہی کہ “یہ قرآن نہیں “صرف حلوہ لکھا گیا ہے
ہمارے ایک ساتھی کالم نویس کا کہنا ہے کہ وہ اس خاتون کے پورے خاندان کو اچھی طرح جانتے ہیں
اور یہ گھرانہ حقیقی معنوں میں راسخ العقیدہ مسلمان ہے ان پر توہین مذہب کا الزام زیب ہی نہیں دیتا ۔
میڈیا نے یہ بھی دکھایا کہ ایک بہادر پولیس افسر سیدہ شہربانو نقوی کی جانب سے
اپنی جان خطرے میں ڈال کر مشتعل ہجوم سے اس خاتون کو بڑی بہادری سے بچانے کا کارنامہ انجام دیا۔
خاتون پولیس افسر شہر بانو نے حقیقی معنوں میں قائد اعظم محمّد علی جناح کے
وژن کو سمجھتے ہوئے پولیسینگ کا فرض نبھا کر ہمارے سر فخر سے ضرور بلند کئے ہیں
مگر ہر عربی کیلی گرافی کو قرآن قرار دینے والا ہجوم حقیقی معنوں میں منتشر نہیں کیا جاسکا ۔
اپنے سیاسی مقاصد کی خاطر نوجوانوں کے جذبات ابھار کر سڑکوں پر لانے والا مائنڈ سیٹ موجود ہے اور اب تک اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی تیاری کرچکا ہے
یہی ہجوم 9فروری 2023ء کو ریاست پر حملہ کرچکا ہے۔شہدا کی یادگار کو جلایا گیا
قومی املاک کو نذر آتش کیا گیا ،فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے
حتی کہ لاہور کے جناح ہاؤس (کورکمانڈر ہاؤس ) میں گھس کربانی پاکستان
حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کے زیر استعمال اشیاء کو جلایا گیا
قائد اعظم محمدعلی جناح کے زیر استعمال پیانو تک کو نہیں چھوڑا گیا ۔ا
س ہجوم نے پاکستان پر حملہ کرکے بھی ریاست کو ہی مورد الزام ٹھہرانے کا بیانیہ اختیار کئے رکھا ۔
اس ہولناک کہانی کے کردار ابھی تک قانون کے شکنجے سے بچ نکلنے کے لئے
کسی نئی واردات کے پلان تیار کر رہے ہیں ۔
ان کو قرار واقعی سزا مل جاتی تو اچھرہ میں
خاتون کو ہراساں کرنے کا واقعہ پیش نہ آتا ،9فروری 2023ء سے 25فروری 2024ءتک پھیلا ہوا یہ مشتعل ہجوم
کبھی قوم نہیں بن سکتا
اس کو اب قرار واقعی سزا دے کر سبق سکھانے کی ضرورت ہے
اس راہ میں کسی طرح کی کوئی مصلحت اگر رکاوٹ بنے گی تو پھر پاکستان کا تماشا دنیا دیکھتی رہے گی ۔

06/03/24

https://dailysarzameen.com/wp-content/uploads/2024/03/p3-3-1-scaled.jpg

articlecolumnsdailyelectionsgooglenewspakistansarzameentoday
Comments (0)
Add Comment